Urdu Shaiyri Cover Image
Urdu Shaiyri Profile Picture
257 Members

سال کے اتنے سارے دنوں میں،
مجھے صرف ایک دن چاہیئے،
آپ کے ساتھ بسر کرنے کے لیے،
وہ ہوتا ہے ایک نومبر...
میں چاہتا ہوں،
وہ دن بے حد شفاف ہو،
آپ کی آنکھوں کی طرح،
بے حد روشن ہو،
آپ کے چہرے جیسا،
اور اتنا گرم،
جس قدر آپ کا بدن،
اس دن کی شفق،
آپ کے ہونٹوں سے ملتی ہو،
اس دن کی ہوا میں ایسی خوشبو ہو،
جو آپ کی سانسوں کی مہک یاد دلائے،
اس دن کی شام کی سیاہی،
آپ کے برقعے کی نقاب جیسی ہو،
اور رات ...
آپ کے بالوں سے نکلی ہو،
اس قدر صاف دن،
مجھے سارا سال نہیں ملتا،
وہ موسیقی جو آپ کی پازیب کے گھنگرو سے نکلتی ہے،
اور آپ کے ساتھ ایک دن بسر کرنے کی،
میری خواہش پوری نہیں ہوتی،
کیونکہ محبت...
سحری میں پیے گئے پانی کے
آخری گھونٹ جیسی ہونی چاہئے،
جس کے بعد دوسرے
گھونٹ کی گنجائش نہ ہو___!!!❤️

"وہ یادداشت کی بہت پکی تھی…"*
_کوئی بات بھولتی نہیں تھی..._
_اور مجھ سے کوئی غلطی ہو جاۓ تو وہ تو_
_بالکل نہیں بھولتی تھی_
_سامنے نہ ہوتی تو خیال میں آجاتی تھی..._
_کیا کررہے ہو..._
_پھر غلطی..._
_کوئی آواز تھی..._
*کسی کی سالگرہ کی تاریخ تو کبھی نہ بُھولتی تھی...*
_اکثر میں بھول جاتا تھا..._
_تو کیک بنا کر سامنے رکھ دیتی تھی..._
_اور پوچھا کرتی تھی..._
_کسی سالگرہ کا کیک لگتا ہے..._
_اس کے یاد کرانے کے انداز الگ تھے..._
_کسی بھی غلطی پر بہت بولنے والی یکدم چپ ہو جاتی تھی..._
*اب کے بار پھر مجھ سے غلطی ہو گئی تھی...*
*" میں اس سال اس کی قبر پر پھول چڑ ھانا بھول گیا تھا..."*
*مگر اس بار وہ خیال میں بھی مجھے یاد دلانے نہیں آئی...*
*" فاصلہ بڑھ گیا تھا۔۔۔"*
*" یا شاید جو مٹی تلے دب جاتے ہیں..."*
*" وہ بھی وقت کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں..."

Me With my favorite poem

چَل آ اِک ایسی نظم کہوں، جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
ؓبس’’ اشک‘‘ کہوں تو اِک آنسو، ترے گورے گال کو دھو جائے

مَیں’’ آ‘‘ لکھوں، تُو آ جائے
میں ’’بیٹھ‘‘ لکھوں، تُو آ بیٹھے
مرے شانے پر سر رکھے تو
مَیں’’نِیند‘‘ کہوں، تُو سو جائے
میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘‘ لکھوں، تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے
میں’’ دِل‘‘ لکھوں، تُو دِل تھامے
میں’’ گُم‘‘ لکھوں، وہ کھو جائے
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل سے
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں
کُچھ’’ اُلٹا سِیدھا‘‘فرض کروں، کُچھ’’ سِیدھا اُلٹا ‘‘ہو جائے

میں’’ آہ ‘‘لِکھوں، تُو "ہائے" کرے
’’بے چین‘‘ لکھوں، بے چین ہو تُو

پھر میں بے چین کا ’’ب ‘‘کاٹوں
تُجھے چین زرا سا ہو جائے

ابھی’’ ع‘‘ لکھوں، تُو سوچے مجھے
پھر’’ش‘‘ لکھوں، تِری نیند اُڑے
جب’’ ق‘‘ لکھوں، تُجھے کُچھ کُچھ ہو
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں، تُجھے ہو جائے

شاعر....عامر امیر

‏ﮐﺘﻨﺎ ﭼﭗﭼﺎﭖھےﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﺎ
ﻣﺎﺗﻤﯽ ﺧﺎﻧﮧﺑﺪﻭﺷﻮﮞ ﮐﮯﺑﺴﯿﺮﻭﮞ ﺟﯿﺴﺎ_•

ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺏﮐﮯ ﻋﺠﺐﻋﺸﻖ ﮨﻮﺍھےﻣﺤﺴﻦ
ﺳﺮﺩ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽﻃﺮﺡ ﮔﺮﻡ ﺳﻮﯾﺮﻭﮞﺟﯿﺴﺎ_•

جب میری ذات سے جی بھر جائے تو بتادینا
میں آنکھ سے آنسوکی طرح خود ہی نکل جاؤں گا۔